ایریزونا کے پیما باشندوں کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ ایک تتلی تھی، جسے چروِٹ میک (زمین کا خالق) کہا جاتا تھا۔ وہ بادلوں سے پھڑپھڑاتی ہوئی نیلی چٹانوں (Blue Cliffs) پر اتری اور اپنے ہی پسینے سے انسانوں کو پیدا کیا۔ جب لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی تو وہ خودغرض اور جھگڑالو ہو گئے۔ چنانچہ چروِٹ میک اپنی تخلیق سے بیزار ہو گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ان سب کو سیلاب میں غرق کر دے گا۔
ایک ہاؤک نامی مخلوق بھی تھی، جو پہاڑوں کا ایک شیطان تھا۔ وہ لوگوں کی بیٹیوں کو اغوا کر لیتا اور ان کے بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا۔ […] وہ خاموشی سے اس کا پیچھا کرتے ہوئے سوپرسٹیشن پہاڑوں (Superstition Mountains) میں داخل ہوا۔ اس نے صبّار کے پھل سے بنی شراب میں نشہ آور دوا ملا دی، جو اس کی بیٹی نے ہاؤک کو پیش کرنی تھی۔ پھر جب ہاؤک وہ شراب پی چکا تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے باہر نکلا اور اس مدہوش شیطان کا سر پھوڑ کر اسے ہلاک کر دیا۔ […]
پیما باشندوں کو اس پیش گوئی پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ سوپرسٹیشن پہاڑوں کو عبور نہیں کرتے، کیونکہ وہاں چروِٹ میک بیٹھا ہے۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ کب ان کی بدکاری اپنی انتہا کو پہنچے، تاکہ وہ پہاڑی سلسلے کے پیچھے بندھے ہوئے ایک عظیم سمندر کو آزاد کر کے زمین پر چھوڑ دے اور ہر چیز کو سیلاب میں ڈبو دے۔