ایریزونا کے پیما ہندوستانیوں کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ تتلی تہا، چیروٹ میک (زمین بنانے والا)، جو بادلوں سے نیلی پہاڈی […] تک پھڑپھڑاتا ہوا اترا اور اپنے پسینے سے انسانوں کو بنایا۔ جیسا کہ لوگ بڑھتے گئے، وہ خود غرض اور جھگڑالو بنتے لگے، اس لیے چیروٹ میک کو اپنے کام سے نفرت ہو گئی اور اس نے فیصلہ کیا کہ ان سب کو ڈبو دے۔[...] یہاں پر ایک ہاک تھا، جو پہاڑوں کا شیطان تھا، جس نے ان کی بیٹیوں کو اغوا کر لیا اور ان کے بیٹوں کو قتل کر دیا۔ […] وہ خاموشی سے اس کے پیچھے سپر اسٹیشن کی پہاڑیوں میں چلا گیا؛ اس نے کیکٹس کی شراب میں نشہ آور چیز ملا دی جسے اس کی بیٹی اسے پیش کرنے والی تھی؛ پھر، جب اس نے اسے پی لیا، تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے نکلا اور اس بے ہوش شیطان کا دماغ پھوڑ دیا۔ […] تو پیماز اس پیشن گوئی پر اتنا پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپر اسٹیشن کی پہا ڑیوں سے نہیں گزریں گے، کیونکہ وہاں پر چیروٹ میک بیٹھا ہے — ان کی بدکاری کے عروج کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ پہاڑی سلسلے کےپیچھے ایک بڑے سمندر کو زمین پر چھوڑ دے۔ | Entry #39751 — Variant: Not specifiednone
|
ایریزونا کے پیما انڈین کہتے ہیں کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ ایک تتلی تھی، جس کا نام چروِٹ میک (زمین بنانے والا) تھا۔ وہ بادلوں سے اڑتی ہوئی نیلی چٹانوں پر اتری […] اور اپنے ہی پسینے سے انسان بنائے۔ جیسے جیسے لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی، وہ خود غرض اور جھگڑالو ہو گئے۔ اس پر چروِٹ میک اپنی ہی بنائی ہوئی مخلوق سے بیزار ہو گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ سب کو ڈبو دے گا۔ […] پہاڑوں میں ایک ہاؤک نام کا بھوت (شیطان) رہتا تھا، جو ان کی بیٹیوں کو اٹھا لے جاتا اور بیٹوں کو مار ڈالتا تھا۔ […] سوہا خاموشی سے اس کے پیچھے سپرسٹیشن ماؤنٹینز تک گیا۔ اس نے کیکٹس کی شراب میں نشہ ملا دیا، جو ہاؤک کی بیٹی نے اسے پلانی تھی۔ جب ہاؤک وہ شراب پی کر مدہوش ہو گیا تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے نکلا اور اس نشے میں دھت بلا کا سر کچل ڈالا۔ […] پیما لوگوں کو اس پیشگوئی پر اتنا پکا یقین ہے کہ وہ سپرسٹیشن ماؤنٹینز کو کبھی پار نہیں کرتے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہاں چروِٹ میک بیٹھا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ جب لوگوں کی برائی حد سے بڑھ جائے تو وہ پہاڑوں کے پیچھے رکے ہوئے سمندر کو زمین پر چھوڑ دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔ | Entry #39523 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 1 "dislike" tag
باپ ایک تتلی تھی، | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کے پیما انڈینز کا عقیدہ ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ ایک تتلی تھی، جسے وہ ’’چروٹ میک‘‘ (زمین بنانے والا) کہتے تھے۔ وہ بادلوں سے اڑتا ہوا نیلی چٹانوں (Blue Cliffs) پر اترا اور اپنے پسینے سے انسانوں کو پیدا کیا۔ جب انسانوں کی تعداد بڑھنے لگی تو وہ خود غرض اور آپس میں جھگڑنے والے بن گئے۔ چنانچہ چروٹ میک اپنی اس تخلیق سے بیزار ہو گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ ان سب کو غرق کر دیا جائے۔ […] ایک ہاؤک نامی پہاڑی شیطان بھی تھا، جو ان کی بیٹیوں کو اغوا کر لیتا اور بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا۔ […] وہ خاموشی سے اس کا پیچھا کرتا ہوا سپرسٹیشن پہاڑوں (Superstition Mountains) میں جا پہنچا۔ اس نے صبار (کیکٹس) سے تیار کی گئی شراب میں نشہ آور چیز ملا دی، جو اس کی بیٹی نے ہاؤک کو پیش کرنی تھی۔ جب وہ شراب پی چکا تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے باہر نکلا اور اس مدہوش شیطان کا سر اس طرح کچل دیا کہ اس کا دماغ باہر نکل آیا۔ […] پیما لوگ اس پیش گوئی پر اس قدر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپرسٹیشن پہاڑوں کو عبور کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ چروٹ میک وہیں بیٹھا انتظار کر رہا ہے کہ کب ان کی بداعمالیاں حد سے بڑھیں اور وہ پہاڑی سلسلے کے پیچھے بند ایک عظیم سمندر کو آزاد کر کے زمین پر چھوڑ دے، تاکہ سب کچھ اس کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو جائے۔  | Entry #39589 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 1 "dislike" tag
مدہوش شیطان کا سر | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کی سرزمین کے پیما (Pima) قبیلے کے فرزندانِ کوہ و دشت کی روایت ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کے جدِ امجد ایک تتلی نما ہستی چیروِٹ میک (Cherwit Make) (خالقِ ارض) تھے، جو ابر کے دامن سے پر پھڑپھڑاتے ہوئے نیلی صخراؤں (Blue Cliffs) پر نزول فرما ہوئے [...] اور اپنے ہی پسینے کے قطروں سے انسانوں کو وجود بخشا۔ جیسے جیسے نسل بشر بڑھتی گئی تو ان میں خود غرضی اور نزاع کی خصلتیں پروان چڑھنے لگیں، تب چیروِٹ میک (Cherwit Make) اپنی صناعی سے بیزار ہوئے اور اس نے ان سب کو سیلابِ فنا میں بہا دینے کا عزم کر لیا۔[...] اس زمانے میں ہاؤک (Hauk) نامی ایک پہاڑی عفریت تھا، جو ان کی بیٹیوں کو اغوا کرتا اور ان کے بیٹوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر ڈالتا تھا۔ […] سوہا خاموشی سے اس کا پیچھا کرتے ہوئے سپراسٹیشن پہاڑوں (Superstition Mountains) میں داخل ہوا، اس نے کیکٹس کی اس شراب میں خواب آور دوا آمیز کی جو اس کی بیٹی اسے پیش کرنے والی تھی، پھر جب وہ اسے پی گیا تو سوہا اپنی کمین گاہ سے برآمد ہوا اور اس مدہوش عفریت کا دماغ کچل ڈالا۔ […] پیما (Pima) قبیلے کے لوگ اس پیش گوئی پر اس قدر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپراسٹیشن پہاڑوں (Superstition Mountains) کو کبھی عبور نہیں کرتے، کیونکہ ان کے بقول وہاں چیروٹ میک (Cherwit Make) براجمان ہے — ان کی بداعمالیوں کے عروج کا منتظر، تاکہ وہ ایک ایسے بحرِ عظیم کو زمین پر چھوڑ دے جو اس سلسلۂ کوہ کے پسِ پشت بند باندھ کر محبوس ہے۔  | Entry #39272 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 2 "dislike" tags
فرزندانِ کوہ و دشت ک | Spelling | No comments | |
ڈالتا تھا۔ | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کے پیما باشندوں کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ ایک تتلی تھی، جسے چروِٹ میک (زمین کا خالق) کہا جاتا تھا۔ وہ بادلوں سے پھڑپھڑاتی ہوئی نیلی چٹانوں (Blue Cliffs) پر اتری اور اپنے ہی پسینے سے انسانوں کو پیدا کیا۔ جب لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی تو وہ خودغرض اور جھگڑالو ہو گئے۔ چنانچہ چروِٹ میک اپنی تخلیق سے بیزار ہو گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ان سب کو سیلاب میں غرق کر دے گا۔ ایک ہاؤک نامی مخلوق بھی تھی، جو پہاڑوں کا ایک شیطان تھا۔ وہ لوگوں کی بیٹیوں کو اغوا کر لیتا اور ان کے بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا۔ […] وہ خاموشی سے اس کا پیچھا کرتے ہوئے سوپرسٹیشن پہاڑوں (Superstition Mountains) میں داخل ہوا۔ اس نے صبّار کے پھل سے بنی شراب میں نشہ آور دوا ملا دی، جو اس کی بیٹی نے ہاؤک کو پیش کرنی تھی۔ پھر جب ہاؤک وہ شراب پی چکا تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے باہر نکلا اور اس مدہوش شیطان کا سر پھوڑ کر اسے ہلاک کر دیا۔ […] پیما باشندوں کو اس پیش گوئی پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ سوپرسٹیشن پہاڑوں کو عبور نہیں کرتے، کیونکہ وہاں چروِٹ میک بیٹھا ہے۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ کب ان کی بدکاری اپنی انتہا کو پہنچے، تاکہ وہ پہاڑی سلسلے کے پیچھے بندھے ہوئے ایک عظیم سمندر کو آزاد کر کے زمین پر چھوڑ دے اور ہر چیز کو سیلاب میں ڈبو دے۔  | Entry #39448 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 1 "dislike" tag
پھڑپھڑاتی | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کے پیما انڈینز کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ تتلی تھا، چروِٹ میک (زمین بنانے والا)، جو بادلوں سے نیچے نیلے رنگ کی چٹانوں پر پھڑپھڑاتا ہوا اترا [...] اور اس نے اپنے پسینے سے انسانوں کو بنایا۔ جیسے جیسے لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی، وہ خود غرض اور جھگڑالو ہوتے گئے، چنانچہ چروِٹ میک اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی مخلوق سے بیزار ہو گیا اور اس نے ان سب کو غرق کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ [...] ایک ہاؤک تھا، جو پہاڑوں کا ایک شیطان تھا اور ان کی بیٹیوں کو اغوا کرتا اور ان کے بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا۔ [...] وہ خاموشی سے اس کے پیچھے سپرسٹیشن پہاڑوں میں جا پہنچا۔ اس نے اس شرابی کو وہ کیکٹس کی شراب پلائی جو اس کی بیٹی اسے پلانے والی تھی۔ پھر جب وہ نشے میں دھت ہو گیا تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے باہر نکلی اور اس احمق دشمن کے دماغ پر وار کر کے اسے کچل دیا۔ [...] پیما لوگ اس پیش گوئی پر اس قدر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپرسٹیشن پہاڑوں کو عبور نہیں کرتے، کیونکہ وہاں چروِٹ میک بیٹھا ہے — ان کی شرارتوں کے عروج کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ پہاڑی سلسلے کے پیچھے بند سمندر کو آزاد کر کے زمین پر ایک عظیم سیلاب لے آئے۔  | Entry #39113 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 1 "dislike" tag
|
ایریزونا کے پیما انڈینز کہتے ہیں کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا باپ ایک تتلی تھا، چیروِٹ ماکے (زمین بنانے والا)، جو بادلوں سے اتر کر وردے اور سالٹ دریاؤں کے سنگم پر واقع نیلی چٹانوں پر آیا اور اپنے پسینے سے انسانوں کو پیدا کیا۔ جیسے جیسے لوگ بڑھے وہ خود غرض اور جھگڑالو ہوتے گئے، یہاں تک کہ چیروِٹ ماکے اپنے ہی بنائے ہوؤں سے بیزار ہو گیا اور سب کو غرق کرنے کا ارادہ کر لیا۔ لیکن پہلے اس نے شمال کی ہوا کی آواز میں انہیں ایماندار رہنے اور امن سے جینے کا حکم دیا۔ اس آواز کی تشریح کرنے والے نبی سوہا کو ہوا سننے پر بے وقوف کہا گیا، مگر اگلی رات مشرق کی ہوا نے وہی حکم دہرایا اور ساتھ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انہوں نے اصلاح نہ کی تو آسمان کا حاکم سب کو تباہ کر دے گا۔ ایک بار پھر انہوں نے مذاق اڑایا، اور اگلی رات مغرب کی ہوا نے انہیں خبردار کیا۔ لیکن یہ تیسری تنبیہ بھی بے کار گئی۔ چوتھی رات جنوب کی ہوا آئی۔ اس نے سوہا کے کان میں سرگوشی کی کہ وہی ایک اچھا رہا ہے اور اسے بچنا چاہیے، اور حکم دیا کہ وہ سپروس گوند سے ایک کھوکھلی گیند بنائے جس میں طوفان کے دوران تیر سکے۔ سوہا اور اس کی بیوی فوراً گوند جمع کرنے نکلے، جسے پگھلا کر انہوں نے ایک بڑی گول کشتی بنائی، جس میں انہوں نے گری دار میوے، بلوط کے آٹے اور پانی کے مرتبان اور ریچھ اور ہرن کے گوشت سے وزن برابر کیا۔ مقررہ دن سوہا اور اس کی بیوی اس چٹان سے جہاں کشتی رکھی تھی، سبز وادیوں کی طرف افسوس سے دیکھ رہے تھے، کٹائی کرنے والوں کے گیت سن رہے تھے اور آہ بھر رہے تھے کہ اتنی خوبصورتی جلد ہی برباد ہو جائے گی، جب بادل سے آگ کا ایک ہاتھ نکلا اور اس نے نیلی چٹانوں کو گرج کے ساتھ ضرب لگائی۔ یہ اشارہ تھا۔ تیزی سے ہر طرف سے بادل آ گئے اور بارش برسنے لگی۔ اپنی مومی گیند میں واپس جا کر سوہا اور اس کی بیوی نے دروازہ بند کر لیا۔ پھر کچھ دن تک وہ گہرے ہوتے سمندر میں لڑھکتے اور ہچکولے کھاتے رہے۔ ان کا ذخیرہ تقریباً ختم ہونے والا تھا جب کشتی رک گئی، اور اس کے پہلو میں سوراخ کر کے وہ باہر نکلے۔ ان کے قدموں میں ٹونا کیکٹس اگ رہا تھا، اور انہوں نے اس کا سرخ پھل لالچ سے کھایا، لیکن چاروں طرف پانی کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب رات آئی تو وہ کشتی میں واپس چلے گئے اور سو گئے — ایک رات، ایک مہینہ، ایک سال، شاید ایک صدی، کیونکہ جب وہ جاگے تو پانی غائب ہو چکا تھا، وادیاں ہریالی سے بھر گئی تھیں، اور جنگلوں میں پرندوں کے گیت گونج رہے تھے۔ خوش جوڑا سپرسٹیشن پہاڑوں سے، جہاں کشتی ٹھہری تھی، اتر کر وادیوں میں چلا گیا، جہاں وہ ہزار سال تک رہے، اور ایک عظیم قبیلے کے والدین بنے۔ لیکن برائی مکمل ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہاؤک نام کا ایک پہاڑی شیطان تھا، جو ان کی بیٹیوں کو چرا لیتا اور بیٹوں کو مار ڈالتا۔ ایک دن، جب عورتیں کتان اور کیکٹس ریشہ کات رہی تھیں اور مرد مکئی جمع کر رہے تھے، ہاؤک بستی میں اترا اور سوہا کی ایک اور بیٹی کو چرا لے گیا۔ بزرگ، جس کا صبر جواب دے چکا تھا، نے شیطان کو مارنے کی قسم کھائی۔ اس نے دیکھا کہ وہ کس راستے سے وادی میں داخل ہوتا ہے۔ خاموشی سے اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہ سپرسٹیشن پہاڑوں میں گیا؛ اس نے کیکٹس کی شراب میں نشہ ملا دیا جو اس کی بیٹی کو اسے پیش کرنی تھی؛ پھر جب اس نے پی لی، تو سوہا اپنی چھپنے کی جگہ سے نکلا اور مدہوش شیطان کا بھیجا نکال دیا۔ شیطان کے دماغ کے کچھ ٹکڑے بکھر گئے اور دوسری برائیوں کے بیج بن گئے، لیکن ہاؤک کے خاتمے کے بعد دنیا میں پہلے سے کم بدی رہ گئی۔ سوہا نے اپنے لوگوں کو ایڈوبی گھر بنانا، بیلچے سے کھودنا، اپنی زمین کو سیراب کرنا، کپڑا بننا، اور جنگوں سے بچنا سکھایا۔ لیکن بسترِ مرگ پر اس نے پیش گوئی کی کہ وہ دولت سے مغرور ہو جائیں گے، دوسروں کی زمینوں کے لالچی ہوں گے، اور فائدے کے لیے جنگیں کریں گے۔ جب وہ وقت آئے گا تو ایک اور سیلاب آئے گا اور ایک بھی نہیں بچے گا — برے مٹ جائیں گے اور اچھے زمین چھوڑ کر سورج میں رہیں گے۔ پیما اس پیش گوئی پر اتنا پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپرسٹیشن پہاڑوں کو عبور نہیں کرتے، کیونکہ وہاں چیروِٹ ماکے بیٹھا ہے — ان کی بدی کے عروج کا انتظار کرتے ہوئے تاکہ زمین پر ایک زبردست سمندر چھوڑ دے جو پہاڑی سلسلے کے پیچھے بندھا ہوا ہے۔  | Entry #39760 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 2 "dislike" tags
یہ تیسری تنبیہ | Spelling | No comments | |
یہ تیسری تنبیہ بھی بے | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کے 'پیما' قبائل کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کا بانی ایک تتلی تھا۔یعنی 'چیروٹ میک' (زمین بنانے والا) جو بادلوں سے اڑتا ہوا نیلی چٹانوں (Blue Cliffs) پر اترا اور اپنے ہی پسینے سے انسان تخلیق کیے۔ جیسے جیسے لوگوں کی آبادی بڑھی ۔ وہ خود غرض اور جھگڑالو ہوتے گئے۔ جس پر چیروٹ میک اپنی اس تخلیق سے سخت متنفر ہوا اور اس نے ان سب کو ڈبونے کا عزم کر لیا۔ پہاڑوں میں "ہاوک" نامی ایک شیطان بستا تھا ۔ جو ان کی بیٹیوں کو اغوا اور بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا۔ سوہا خاموشی سے اس کا پیچھا کرتا ہوا سپرسٹیشن کے پہاڑوں تک جا پہنچا؛ ۔ اس نے اس کیکٹس کی شراب میں نشہ آور شے ملا دی جو اس کی بیٹی نے اسے پیش کرنی تھی۔ پھر جونہی اس نے وہ شراب پی ۔ سوہا اپنی گھات سے باہر نکلا اور اس بے سدھ شیطان کا کام تمام کر دیا۔ پیما قوم اس روایت پر اس قدر اٹل یقین رکھتی ہے ۔ کہ وہ کبھی سپرسٹیشن کے پہاڑوں کا رخ نہیں کرتی ۔ کیونکہ وہاں چیروٹ میک جلوہ فرما ہے ۔ جو ان کی بدعملیوں کے پیمانے لبریز ہونے کا منتظر ہے ۔ تاکہ اس پہاڑی سلسلے کے پسِ پشت بندھے طوفانی سمندر کو زمین پر کھول دے ۔ | Entry #39133 — Variant: Not specifiednone
|
اریزونا کے پیما (Pima) انڈینز کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں اور جانوروں کے والد ایک تتلی تھے، چروئٹ میک (مٹی بنانے والے)، جو بادلوں سے نیچے اڑ کر نیلے چٹانوں تک آئے... اور یوں خود بخود پیدا ہو گئے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھی، وہ خود غرض اور جھگڑالو ہو گئے، یہاں تک کہ چروئٹ میک اپنے ہنر سے بیزار ہو گئے اور انہیں ڈبو کر ہلاک کرنے کا عزم کر لیا۔ وہاں ایک ہاک (شاہین) تھا، جو پہاڑوں کا ایک دیوتا تھا، جس نے اپنی بیٹیوں کو چھپا لیا اور ان کی جان بچائی۔ اس نے خاموشی سے اسے سپر سٹیشن پہاڑوں تک فالو کیا؛ اس نے کیکٹس کی شراب میں اسے مدہوش کر دیا جو اس کی بیٹی نے اسے پلانی تھی، جب اس نے پی لی، تو چروئٹ میک اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور غصے میں پاگل ہو کر اپنے ہی بنائے ہوئے تودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ پیما (Pimas) اس پیشگوئی پر اتنی پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپر سٹیشن پہاڑوں کو عبور نہیں کریں گے، کیونکہ وہاں چروئٹ میک بیٹھا ہے — اپنی بدکاری کے انجام کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ پہاڑوں کے پیچھے بندھا ہوا ایک طاقتور سمندر آزاد کر سکے۔" | Entry #39655 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 1 "dislike" tag
. اور یوں خود بخود پیدا ہو گئے۔ | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کے پیما انڈین یعنی مقامی باشندے کہتے ہیں کہ سارے انسانوں اور جانوروں کا جدِ امجد ایک تتلی نما دیوتا تھا، جسے چیروٹ میک (دھرتی ساز) کہا جاتا ہے۔ وہ بادلوں سے اڑتا ہوا بلیو کلفس پر اترا[…] اور اس نے اپنے پسینے سے انسان بنائے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھی، لوگ خودغرض اور لڑنے جھگڑنے والے ہوتے گئے۔ چیروٹ میک اپنی اس کاریگری سے بڑا بیزار ہوا اور اس نے سب کو ڈبو کر مارنے کا فیصلہ کر لیا[…] ان پہاڑوں میں ایک ہاک نامی دیو رہتا تھا، جو ان کی بیٹیاں اغوا کر لیتا تھا اور بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا[…] وہ چپ چاپ اس کے پیچھے سپرسٹیشن پہاڑوں میں چلا گیا؛ اس نے اس کی بیٹی کے ہاتھوں پلائی جانے والی تھوہر کی شراب میں نشہ ملا دیا؛ پھر جب اس نے وہ پی لی، تو وہ اپنی چھپنے والی جگہ سے باہر نکلا اور اس نے اس مدہوش دیو کا بھیجا نکال دیا[…] پیما قوم کو اس پیشگوئی پر اتنا پکا یقین ہے کہ وہ سپرسٹیشن پہاڑاں کو پار نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ تصور رکھتے ہیں کہ وہاں چیروٹ میک بیٹھا ہوا ہے— جو ان کی بدکاری کے حد سے بڑھنے کا انتظار کر رہا ہے تاکہ دھرتی پر ایک بڑا سمندر چھوڑ سکے جو اس پہاڑی سلسلے کے پیچھے محصور ہے۔ | Entry #39593 — Variant: Not specifiednone
- 1 user entered 1 "dislike" tag
جدِ امجد ایک تتلی نما دی | Spelling | No comments | |
|
ایریزونا کے پیما انڈینز کا ماننا ہے کہ تمام انسانوں اور حیوانوں کا باپ چیریوٹ میک (خالقِ ارض) نامی ایک تتلی تھا، جو بادلوں سے اڑتا ہوا نیلگوں چٹانوں [...] پر اترا اور اپنے ہی پسینے سے انسانوں کو وجود بخشا۔ جیسے جیسے ان کی نسل بڑھتی گئی، لوگ خودغرض اور جھگڑالو ہوتے چلے گئے، چنانچہ چیریوٹ میک اپنی ہی تخلیق سے بیزار آ گیا اور اس نے ان سب کو غرقاب کر دینے کی ٹھان لی۔[...] وہاں ہاک نامی پہاڑوں کا ایک دیو رہتا تھا، جو ان کی بیٹیوں کو اغوا کر لیتا اور بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا۔ [...] اس نے خاموشی سے 'سپر سٹیشن' نامی پہاڑوں میں اس کا تعاقب کیا؛ اس نے ناگ پھنی (کیکٹس) کی اس شراب میں نشہ آور دوا ملا دی جو دیو کی بیٹی نے اسے پیش کرنی تھی؛ پھر جب وہ شراب پی چکا، تو سوہا اپنی کمین گاہ سے نکلا اور اس مدہوش درندے کا سر کچل ڈالا۔ [...] پیما قبائل اس پیش گوئی پر اس قدر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سپر سٹیشن پہاڑوں کو پار نہیں کرتے، کیونکہ وہاں چیریوٹ میک براجمان ہے — جو ان کی شر پسندی کے عروج کا منتظر ہے تاکہ زمین پر ایک بے قابو طوفانی سمندر چھوڑ دے، جو اس پہاڑی سلسلے کی اوٹ میں رُکا ہوا ہے۔ | Entry #39107 — Variant: Not specifiednone
|